صحیح مسلم حدیث ۷۱۱۰ - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور غیرت کا واقعہ
غیرت اور شیطانی وسوسہ
صحیح مسلم : ۷۱۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۱۰
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا ، قَالَتْ : فَغِرْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ ، فَرَأَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ ؟ " ، فَقُلْتُ : وَمَا لِي لَا يَغَارُ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَدْ جَاءَكِ شَيْطَانُكِ ؟ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْ مَعِيَ شَيْطَانٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنْ رَبِّي أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے نکلے رات کو، ان کو غیرت آئی (وہ یہ سمجھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی زوجہ کے پاس تشریف لے گئے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میرا حال دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہوا تجھ کو اے عائشہ! کیا تجھ کو غیرت آئی؟“ میں نے کہا: مجھے کیا ہوا جو میری سی زوجہ (کم عمر، خوب صورت) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے خاوند پر رشک نہ آئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”کیا تیرا شیطان تیرے پاس آ گیا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: آپ کے ساتھ بھی ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن میرے پروردگار نے میری مدد کی حتیٰ کہ میں سلامت رہتا ہوں۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۱۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے جب انہیں غیرت محسوس ہوئی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس تمہارا شیطان آیا؟ پھر وضاحت فرمائی کہ ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے جو وسوسے ڈالتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا ہر انسان کے ساتھ ایسا ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہاں، لیکن اللہ نے اپنے نبیوں کی مدد فرمائی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جذبات میں شیطانی وسوسہ شامل ہو سکتا ہے، لیکن انسان کو صبر اور سمجھداری اختیار کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انسانی جذبات میں شیطانی وسوسہ شامل ہو سکتا ہے
- ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے
- اللہ کی مدد سے نبی محفوظ رہتے ہیں
