صحیح مسلم حدیث ۷۱۱۱ - اعمال اور نجات کی حقیقت
نجات صرف عمل پر نہیں بلکہ رحمت پر ہے
صحیح مسلم : ۷۱۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۱۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " ، قَالَ رَجُلٌ : وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے نجات نہ پائے گا اپنے عمل کی وجہ سے۔“ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ اور آپ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی نہیں مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو ڈھانپ لے اپنی رحمت سے، لیکن تم لوگ میانہ روی کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۱۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پا سکتا۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا آپ صلى الله عليه وسلم بھی؟ تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے میانہ روی اختیار کرنے کی ہدایت دی۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ عمل اہم ضرور ہے لیکن اصل نجات اللہ کی رحمت سے ہوتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ نیکی کرے لیکن غرور نہ کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت میں داخلہ اللہ کی رحمت سے ہے
- عمل کے ساتھ عاجزی ضروری ہے
- دین میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے
