صحیح مسلم حدیث ۷۳۷۰ - دجال کی آزمائش اور نجات کی ہدایت
دجال کے فتنہ میں بچاؤ کی عملی ہدایت
صحیح مسلم : ۷۳۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۷۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ ، قَالَ : " إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ وَإِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا ، فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَاءً ، فَنَارٌ تُحْرِقُ ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا ، فَمَاءٌ بَارِدٌ عَذْبٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا ، فَإِنَّهُ مَاءٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ " ، فَقَالَ عُقْبَةُ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ .
ربعی بن حراش روایت:
میں عقبہ بن عمرو ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ عقبہ نے کہا: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے: تم مجھ سے بیان کرو جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں سنا ہو، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا اس کے ساتھ پانی ہو گا اور آگ ہو گی۔ تو جس کو لوگ پانی دیکھیں گے وہ آگ ہو گی جلانے والی اور جس کو لوگ آگ دیکھیں گے وہ پانی ہو گا سرد اور شیریں۔ پھر جو کوئی تم میں سے یہ موقع پائے اس کو چاہیے کہ جو آگ معلوم ہو اس میں گر پڑے۔ اس لیے کہ وہ شیریں پاکیزہ پانی ہے۔“ عقبہ نے کہا: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو سچ کرنے کے لیے کہ میں نے بھی یہ حدیث سنی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۷۳۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں دجال کے فتنہ کا تفصیلی ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کے پاس جانے سے پہلے ایمان کو مضبوط رکھنا ضروری ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دجال کے زمانے کو پائے وہ اس سے دور رہے اور ایمان پر قائم رہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ دجال کے پاس جھوٹے معجزات ہوں گے جو لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ سب آزمائش ہے۔ ایمان والا وہی ہے جو ان حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دجال کے فتنہ سے دور رہنا ضروری ہے
- ایمان اور صبر سب سے بڑی حفاظت ہے
- ظاہری دھوکے سے بچنا ایمان کا حصہ ہے
