صحیح مسلم حدیث ۷۳۷۵ - دجال اور مؤمن کی آزمائش
دجال کے سامنے حق پر قائم رہنے والا مؤمن
صحیح مسلم : ۷۳۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۷۵
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، وَالسِّيَاقُ لِعَبْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا ، قَالَ : " يَأْتِي وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ ، فَيَنْتَهِي إِلَى بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ ، أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ ، فَيَقُولُ لَهُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ ؟ ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ ؟ ، فَيَقُولُونَ : لَا ، قَالَ : فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ ، فَيَقُولُ : حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْآنَ ، قَالَ : فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ ، فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَام " ،
ابو سعید خدری روایت:
حدیث بیان کی ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمبی حدیث دجال کے ذکر میں تو یہ بھی بیان کیا کہ اس پر حرام ہو گا مدینہ کی گھاٹی میں گھسنا اور آئے گا وہ ایک پتھریلی زمین پر مدینہ کے قریب۔ پھر جائے گا اس کے پاس ایک شخص جو سب لوگوں میں بہتر ہو گا۔ وہ کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں کیا ہے۔دجال لوگوں سے کہے گا: بھلا اگر میں اس کو مار ڈالوں پھر جلا دوں تو تم کو کچھ شک رہے گا اس باب میں؟ وہ کہیں گے نہیں۔ دجال اس شخص کو قتل کرے گا پھر اس کو جلائے گا وہ کہے گا: اللہ کی قسم! مجھے پہلے اتنا یقین نہ تھا تیرے باب میں جتنا اب ہے (یعنی اب تو یقین ہو گیا کہ تو دجال ہے) پھر دجال اس کو قتل کرنا چاہے گا لیکن قتل نہ کر سکے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۳۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک ایسے مؤمن کا ذکر ہے جو دجال کے سامنے حق بیان کرتا ہے اور اسے شہید کر دیا جاتا ہے۔ دجال اسے قتل کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ اس سے وہ شخص مزید یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ دجال جھوٹا ہے۔ آخرکار اللہ اسے جنت عطا کرتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حق پر قائم رہنا چاہے جان بھی چلی جائے، سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حق بات کہنا بڑی قربانی ہے
- اللہ کے راستے میں شہادت عظیم مقام ہے
- دجال کے فریب سے ایمان محفوظ رہتا ہے
