صحیح مسلم حدیث ۷۳۸۸ - دجال کا فتنہ اور مدینہ طیبہ کی حفاظت

دجال کا واقعہ اور مدینہ طیبہ کی حفاظت - اہم سبق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۳۸۸

وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ غَيْلَانَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ ، فَتَاهَتْ بِهِ سَفِينَتُهُ ، فَسَقَطَ إِلَى جَزِيرَةٍ ، فَخَرَجَ إِلَيْهَا يَلْتَمِسُ الْمَاءَ ، فَلَقِيَ إِنْسَانًا يَجُرُّ شَعَرَهُ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ ، قَدْ وَطِئْتُ الْبِلَادَ كُلَّهَا غَيْرَ طَيْبَةَ ، أَخْرَجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ ، فَحَدَّثَهُمْ ، قَالَ : هَذِهِ طَيْبَةُ وَذَاكَ الدَّجَّالُ ،

فاطمہ بنت قیس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمیم داری آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ جو سمندر میں سوار ہوئے تھے ان کا جہاز راہ سے ہٹ گیا اور ایک جزیرہ سے جا لگا۔ وہ اس کے اندر گئے پانی کی تلاش میں۔ وہاں ایک آدمی دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہا تھا اور بیان کیا سارا قصہ حدیث کا۔ پھر کہا کہ دجال نے کہا: اگر مجھ کو اجازت ملتی نکلنے کی تو میں سب شہروں میں ہو آتا سوائے طیبہ کے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم کو لوگوں کے سامنے نکالا۔ اس نے سارا قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طیبہ یہی ہے اور دجال وہی شخص ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۷۳۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ بیان ہوا ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو سنایا۔ وہ سمندر کے سفر میں راستہ بھٹک گئے اور ایک جزیرے پر پہنچے جہاں انہوں نے ایک عجیب شخص کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہا تھا۔ اس شخص نے اپنے حالات اور ایک بڑے فتنہ یعنی دجال کے بارے میں بات کی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسے صرف ایک شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، اور وہ شہر طیبہ (مدینہ منورہ) ہے۔ جب یہ بات نبی کریم صلى الله عليه وسلم تک پہنچی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کے سامنے اس واقعے کی تصدیق فرمائی اور بتایا کہ طیبہ مدینہ ہے اور مذکورہ شخص دجال ہے۔ اس حدیث سے دجال کے فتنہ کی حقیقت اور مدینہ منورہ کی حفاظت واضح ہوتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دجال ایک بڑا فتنہ ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض مقامات کو اس کے اثر سے محفوظ رکھا ہے، جن میں مدینہ منورہ شامل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دجال ایک بڑا فتنہ ہے جس سے امت کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے
  • مدینہ منورہ (طیبہ) اللہ کی خاص حفاظت میں ہے اور دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کے واقعات کی تصدیق فرما کر امت کو صحیح علم دیا
  • غیب کے معاملات اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو وحی کے ذریعے واضح فرماتا ہے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں