صحیح مسلم حدیث ۷۷ - غلط فہم روایتیں
غلط فہم روایتیں: الفاظ بدلیں تو معنی بھی بگڑ جاتے ہیں
صحیح مسلم : ۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۷
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِي ، قَالَ : سَمِعْتُ شَبَابَةَ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ يُحَدِّثُنَا ، فَيَقُولُ : سُوَيْدُ بْنُ عَقَلَةَ : قَالَ شَبَابَةُ : وَسَمِعْتُ عَبْدَ الْقُدُّوسِ ، يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يُتَّخَذَ الرَّوْحُ عَرْضًا ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : أَيُّ شَيْءٍ هَذَا ! قَالَ : يَعْنِي تُتَّخَذُ كُوَّةٌ فِي حَائِطٍ ، لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ الرَّوْحُ ، قَال مُسْلِمٌ : وسَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ مَا جَلَسَ مَهْدِيُّ بْنُ هِلَالٍ بِأَيَّامٍ : مَا هَذِهِ الْعَيْنُ الْمَالِحَةُ الَّتِي نَبَعَتْ قِبَلَكُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا أَبَا إِسْمَاعِيل ،
شبابہ بن سوار مدائنی روایت:
عبدالقدوس ہم سے حدیث بیان کرتا تھا تو کہتا تھا سوید بن عقلہ اور کہتا تھا منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روح یعنی ہوا کو عرض میں لینے سے۔ لوگوں نے کہا: اس کا مطلب کیا ہے؟ وہ بولا: مطلب یہ ہے کہ دیوار میں ایک سوراخ کرے ہوا آنے کے لیے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سنا عبیداللہ بن عمرو قواریری سے انہوں نے سنا ْ حماد بن زید سے، انہوں نے کہا ایک شخص سے، جب مہدی بن ہلال کئی دن تک بیٹھا یہ کیسا کھاری چشمہ ہے جو پھوٹا تمہاری طرف۔ وہ شخص بولا: ہاں اے ابواسماعیل۔
صحیح مسلم حدیث ۷۷ کا خلاصہ
اس روایت میں عبدالقدوس کے بارے میں بیان ہوا کہ وہ روایت کرتے ہوئے “سوید بن عقلہ” کہتا تھا، اور ایک عجیب جملہ نقل کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روح یعنی ہوا کو عرض میں لینے سے منع کیا۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو اس نے کہا کہ دیوار میں سوراخ بنایا جائے تاکہ ہوا آئے۔ متن میں آگے حماد بن زید کا ایک تبصرہ بھی آتا ہے، جس سے ایسے لوگوں کے بارے میں ناگواری ظاہر ہوتی ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع غلط فہم روایت، عجیب نقل، غیر معتبر راوی اور حدیث کی احتیاط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں الفاظ، راوی کی سمجھ اور نقل کا طریقہ سب اہم ہیں؛ بے جوڑ باتوں سے احتیاط ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ غلط سمجھ لیے جائیں تو معنی بگڑ سکتے ہیں۔
- عجیب اور بے ربط روایت کو تحقیق کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے۔
- راوی کی سمجھ بھی روایت کی جانچ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
- اہل علم ایسی باتوں پر خاموش نہیں رہتے تھے جو حدیث کو مشکوک بنائیں۔
