صحیح مسلم حدیث ۷۹۷ - بھنی اوجڑی کے بعد وضو نہیں

بھنی اوجڑی کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۹۷

(حديث موقوف) قَالَ قَالَ عَمْرٌو ، وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " أَشْهَدُ لَكُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ ، ثُمَّ صَلَّى ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .

ابورافع روایت:

میں گواہ ہوں میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری کی اوجڑی بھونتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے پھر نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے۔

صحیح مسلم حدیث ۷۹۷ کا خلاصہ

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بکری کی اوجڑی بھونتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ یہ روایت کھانے کے بعد وضو کے مسئلے میں ایک اور عملی مثال دیتی ہے۔ یہاں دست کے گوشت کے بجائے بکری کی اوجڑی کا ذکر ہے، اور اسے بھوننے کا عمل بھی بیان ہوا ہے۔ حدیث میں راوی کا انداز بہت مضبوط ہے کہ میں گواہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشاہدے کو یقین کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ اس متن سے صرف اتنی بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھنی ہوئی اوجڑی کھانے کے بعد نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابورافع رضی اللہ عنہ نے اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کیا۔
  • حدیث میں بھنی اوجڑی کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کا ذکر ہے۔
  • صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی طریقے کو محفوظ رکھتے تھے۔
  • کھانے کے بعد وضو کے مسئلے میں یہ روایت ایک واضح مثال دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں