صحیح مسلم حدیث ۸۲۳ - پیشاب کے وقت سلام کا جواب
پیشاب کے وقت سلام کا جواب نہ دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۸۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۲۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَجُلًا مَرَّ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ ، فَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ " .
ابن عمر روایت:
ایک شخص نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۸۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص گزرا جبکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پیشاب کر رہے تھے۔ اس نے آپ صلى الله عليه وسلم کو سلام کیا، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب نہیں دیا۔ اس روایت کا اصل موضوع طہارت کے آداب ہیں۔ یہاں خاص طور پر وہ حالت بیان کی گئی ہے جب انسان قضائے حاجت یا پیشاب میں مشغول ہو۔ حدیث کے الفاظ سے بس اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ اس حالت میں آپ صلى الله عليه وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ اس میں سلام کی اہمیت کم نہیں کی گئی، بلکہ موقع اور حالت کا ادب بتایا گیا ہے۔ عام فہم انداز میں کہا جائے تو ہر اچھی بات کا بھی ایک مناسب وقت ہوتا ہے، اور طہارت کے خاص وقت میں خاموشی اور ادب بہتر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قضائے حاجت کے وقت خاموشی اور ادب کا خیال رکھنا چاہیے۔
- سلام اچھی چیز ہے، مگر ہر حالت جواب دینے کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے طہارت کے آداب سیکھنے کو ملتے ہیں۔
- حدیث میں صرف پیشاب کی حالت کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
