صحیح مسلم حدیث ۸۲۲ - تیمم کے بعد سلام کا جواب
تیمم کے بعد سلام کا جواب دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۸۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۲۲
قَالَ مُسْلِم : وَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجَهْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ أَبُو الْجَهْمِ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَام " .
عمیر روایت:
میں عبدالرحمٰن بن یسار ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ابوالجہم بن حارث کے پاس گئے، ابوالجہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئرجمل (مدینہ کے قریب ایک مقام ہے) کی طرف سے آئے۔ راہ میں ایک شخص ملا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور مسح کیا منہ اور دونوں ہاتھوں پر پھر سلام کا جواب دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۸۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ایک عمل بیان ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم بئرجمل کی طرف سے آ رہے تھے۔ راستے میں ایک شخص ملا اور اس نے سلام کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فوراً جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے، چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا، پھر سلام کا جواب دیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تیمم اور سلام کا ادب ہے۔ متن سے اتنی بات صاف سمجھ آتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے پاکی سے متعلق ایک عمل کیا، پھر سلام کا جواب دیا۔ اس سے سلام کے جواب کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی کہ دینی آداب میں پاکیزگی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہاں روایت صرف اسی واقعے کو بیان کرتی ہے، اس لیے اس سے آگے کوئی اضافی حکم نہیں جوڑا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سلام کا جواب دینا اہم ادب ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سلام کا جواب دینے سے پہلے مسح کیا۔
- دینی کاموں میں پاکیزگی کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- حدیث کے الفاظ تک محدود رہ کر بات سمجھنی چاہیے۔
