صحیح مسلم حدیث ۸۲۹ - وضو نماز کے لیے ہے

وضو نماز کے لیے ہے: کھانے سے پہلے وضو کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۲۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ مَوْلَى آلِ السَّائِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَائِطِ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَوَضَّأُ ؟ قَالَ : لِمَ أَلِلصَّلَاةِ ؟ " .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پائخانے کو تشریف لے گئے جب لوٹ کر آئے تو کھانا لایا گیا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ وضو کیوں نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں؟ کیا نماز پڑھنا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۸۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پائخانے کو تشریف لے گئے۔ جب واپس آئے تو کھانا پیش کیا گیا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ وضو کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کیوں؟ کیا نماز پڑھنا ہے؟ اس روایت میں اصل بات یہ ہے کہ وضو کو نماز کے ساتھ بیان کیا گیا۔ اس موقع پر کھانا سامنے تھا، نماز کا ارادہ بیان نہیں ہوا، اس لیے آپ صلى الله عليه وسلم نے وضو کے سوال کا جواب نماز کے حوالے سے دیا۔ حدیث بہت مختصر ہے، مگر عام لوگوں کے لیے اہم ہے کیونکہ کبھی لوگ ہر کام سے پہلے وضو کو لازم سمجھ لیتے ہیں۔ یہاں متن کے مطابق بس یہی کہا جائے گا کہ اس موقع پر وضو کو کھانے کے لیے لازم نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وضو کا بنیادی تعلق نماز سے ہے۔
  • ہر اچھے کام کے لیے وضو کو لازم قرار دینا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم سوال کرتے تھے تاکہ صحیح بات معلوم ہو۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے مختصر مگر واضح جواب دیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں