صحیح مسلم حدیث ۸۳۰ - کھانے کے بعد وضو نہ کرنا
کھانا کھانے کے لیے وضو لازم نہیں: حدیث کی وضاحت
صحیح مسلم : ۸۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۳۰
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حُوَيْرِثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَضَى حَاجَتَهُ مِنَ الْخَلَاءِ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ ، فَأَكَلَ ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً ، قَالَ : وَزَادَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ لَمْ تَوَضَّأْ ، قَالَ : مَا أَرَدْتُ صَلَاةً فَأَتَوَضَّأَ ؟ " ، وَزَعَمَ عَمْرٌو ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے فارغ ہوئے، اس وقت کھانا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔ دوسری روایت میں یوں ہے لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز تھوڑی پڑھنا چاہتا تھا جو وضو کرتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۳۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے، کھانا لایا گیا، آپ صلى الله عليه وسلم نے کھایا اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔ دوسری روایت کے الفاظ میں لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے وضو نہیں کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میں نماز تھوڑی پڑھنا چاہتا تھا جو وضو کرتا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع کھانا اور وضو ہے۔ اس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے وضو کو نماز کے ارادے سے جوڑا، نہ کہ کھانے سے۔ متن میں کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے یا عام صفائی کے الگ آداب کی بحث نہیں ہے، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ یہ حدیث وضو کے بارے میں ایک سادہ اور آسان فہم رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس واقعے میں کھانے کے لیے وضو لازم نہیں کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے وضو کو نماز کے ارادے سے متعلق فرمایا۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم دینی عمل میں احتیاط کرتے تھے۔
- حدیث کو اسی کے الفاظ اور واقعے کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
