صحیح مسلم حدیث ۸۳۲ - اعوذ باللہ من الخبث والخبائث

اعوذ باللہ من الخبث والخبائث: بیت الخلا کی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۳۲

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ " .

‏‏‏‏ اس سند سے جو حدیث آئی ہے اس میں یہ لفظ ہیں «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» کہ ”میں پناہ چاہتا ہوں اللہ کی جنوں اور جننیوں سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۸۳۲ کا خلاصہ

اس روایت میں اسی سند سے بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا کے الفاظ نقل ہوئے ہیں: أعوذ بالله من الخبث والخبائث۔ ترجمے میں بتایا گیا کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جنوں اور جننیوں سے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بیت الخلا کی دعا ہے۔ پچھلی روایت میں الفاظ اللهم إني أعوذ بك آئے تھے، جبکہ یہاں أعوذ بالله کے الفاظ ہیں۔ دونوں روایات میں اصل بات اللہ کی پناہ مانگنا ہے۔ یہ دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرے۔ حدیث کے متن میں جو الفاظ آئے ہیں، انہی کو اصل بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، مگر عمل کے لحاظ سے یہ بہت آسان اور یاد رکھنے والی دعا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیت الخلا جاتے وقت اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • حدیث میں دعا کے الفاظ مختصر اور آسان ہیں۔
  • اللہ سے پناہ مانگنا بندے کی عاجزی ظاہر کرتا ہے۔
  • الفاظ کی روایت میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، مگر اصل معنی پناہ مانگنا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں