صحیح مسلم حدیث ۸۳۳ - اقامت کے بعد گفتگو
اقامت کے بعد گفتگو کی حدیث: نماز سے پہلے ایک واقعہ
صحیح مسلم : ۸۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۳۳
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَجِيٌّ لِرَجُلٍ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ : وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُنَاجِي الرَّجُلَ ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ " .
انس روایت:
نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے اور عبدالوارث کی حدیث میں یہ لفظ ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے جب کہ نماز کی اقامت کہی جا چکی تھی حتیٰ کہ لوگ سو گئے۔
صحیح مسلم حدیث ۸۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کی اقامت کہی گئی، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ایک آدمی سے باتیں کر رہے تھے۔ عبدالوارث کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی اللہ صلى الله عليه وسلم ایک شخص سے بات کر رہے تھے جبکہ اقامت ہو چکی تھی، یہاں تک کہ لوگ سو گئے۔ اس حدیث کا موضوع اقامت کے بعد گفتگو ہے۔ متن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ گفتگو کس بارے میں تھی، اس لیے اس پر کوئی اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔ روایت بس یہ بتاتی ہے کہ اقامت کے بعد بھی آپ صلى الله عليه وسلم اس شخص سے بات کرتے رہے اور لوگ انتظار میں سو گئے۔ اس سے واقعے کی سادگی اور صحابہ کے صبر کا پہلو سامنے آتا ہے۔ نماز کا معاملہ اہم تھا، مگر اس خاص موقع پر گفتگو جاری رہی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے واقعے کو اس کے الفاظ تک محدود رکھنا چاہیے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے انتظار کیا۔
- اقامت کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم ایک شخص سے بات کرتے رہے۔
- روایت میں گفتگو کی وجہ بیان نہیں ہوئی، اس لیے اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔
