صحیح مسلم حدیث ۸۶۷ - ہر جھکنے اور اٹھنے پر تکبیر
نماز میں ہر جھکنے اور اٹھنے پر اللہ اکبر کہنا
صحیح مسلم : ۸۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۶۷
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، " كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ ، فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھاتے تو ہمیشہ جھکتے اور اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے پھر انہوں نے نماز سے فراغت کے بعد کہا: میں تم سب لوگوں کی بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھتا ہوں۔
صحیح مسلم حدیث ۸۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت «اللہ اکبر» کہتے تھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں تم سب لوگوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھتا ہوں۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز کی تکبیرات ہیں۔ یہاں یہ بات سامنے آتی ہے کہ نماز میں حرکت کرتے وقت تکبیر کہنا صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے جوڑا۔ حدیث میں رکوع، سجدہ یا قیام کی تفصیل الگ الگ نہیں دی گئی، بلکہ عمومی الفاظ میں ہر جھکنے اور اٹھنے کا ذکر ہے۔ اس لیے اس روایت سے نماز میں تکبیرات کی پابندی اور نبوی طریقے کی پیروی کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر تکبیر کہتے تھے۔
- انہوں نے اپنی نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے قریب بتایا۔
- نماز کی حرکتوں کے ساتھ تکبیر کا ذکر اس روایت میں واضح ہے۔
- نماز کا طریقہ صحابہ کرام کے عمل سے بھی سمجھا جاتا ہے۔
