صحیح مسلم حدیث ۸۷۱ - جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر
جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے
صحیح مسلم : ۸۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۷۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ : " كَانَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاةِ ، كُلَّمَا رَفَعَ ، وَوَضَعَ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، مَا هَذَا التَّكْبِيرُ ؟ قَالَ : إِنَّهَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ابوسلمہ روایت:
جھکتے اور اٹھتے وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے۔ ہم نے پوچھا: یہ تکبیریں کیسی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔ (یعنی رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے
صحیح مسلم حدیث ۸۷۱ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر نماز میں جب جھکتے یا اٹھتے تو تکبیر کہتے تھے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ اے ابوہریرہ! یہ تکبیریں کیسی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: نماز میں تکبیرات صرف ایک عادت نہیں، بلکہ صحابی کے بیان کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ ہیں۔ روایت میں ہر نماز، ہر اٹھنے اور رکھنے، اور اللہ اکبر کہنے کا ذکر آتا ہے۔ یہاں ہمیں کوئی اضافی حکم گھڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ بس یہ سمجھنا چاہیے کہ نماز کے افعال کے ساتھ تکبیر کہنا ایک محفوظ نبوی عمل کے طور پر نقل ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نماز میں جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا ذکر ہے۔
- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بتایا۔
- لوگوں کے سوال پر صحابی نے نماز کا طریقہ واضح کیا۔
- نماز کے عملی افعال کو سیکھنے میں صحابہ کا عمل رہنمائی دیتا ہے۔
