صحیح مسلم حدیث ۸۸۸ - مقتدی کی قرأت
ظہر میں امام کے پیچھے قرأت کا بیان
صحیح مسلم : ۸۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۸۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى الظُّهْرَ ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ ، ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " أَيُّكُمْ قَرَأَ " ، أَوْ " أَيُّكُمُ الْقَارِئُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، فَقَالَ : " قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " .
عمران بن حصین روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ظہر کی تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کرنے لگا سورۃ الاعلیٰ کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ”تم میں سے کون پڑھ رہا تھا“ ایک شخص نے کہا: میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے یقین تھا کہ تم میں کوئی مجھ سے تلاوت چھین رہا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سورۃ الاعلیٰ پڑھنے لگا۔ جب نماز ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم میں سے کون پڑھ رہا تھا؟ ایک شخص نے کہا کہ میں تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے یقین تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے تلاوت چھین رہا ہے۔ اس حدیث میں امام کے پیچھے قرأت کا ایک عملی واقعہ بیان ہوا ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں امام کی قرأت کے ساتھ مقتدی کی قرأت ایسا معاملہ ہے جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ دلائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کے پیچھے قرأت کرنے میں نماز کے نظم کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد مسئلہ واضح فرمایا۔
- مقتدی کو امام کی اقتدا کا ادب ملحوظ رکھنا چاہیے۔
- نماز میں قرآن پڑھنا ثواب کا کام ہے، مگر طریقہ بھی درست ہونا چاہیے۔
