صحیح مسلم حدیث ۸۸۲ - نماز میں قرأت کا حکم

نماز میں قرأت کے بغیر نماز درست نہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۸۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَنَّاهُ لَكُمْ ، وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَكُمْ " .

ابوہریرہ روایت:

بغیر قرأت کے نماز درست نہیں ہوتی۔ اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز باآواز بلند پڑھی ہم نے بھی بآواز بلند پڑھی اور جو نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر جہری پڑھی اسے ہم نے بھی ویسے ہی ادا کیا۔

صحیح مسلم حدیث ۸۸۲ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان کرتے ہیں کہ بغیر قرأت کے نماز درست نہیں ہوتی۔ اس سے نماز میں قرآن پڑھنے کی اہمیت صاف معلوم ہوتی ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز کے عملی طریقے کی طرف بھی رہنمائی فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نماز میں آواز بلند کی، ہم نے بھی ویسے ہی کیا، اور جس نماز کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر جہری پڑھا، ہم نے بھی ویسے ہی ادا کیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں قرأت ہے، خاص طور پر یہ بات کہ جہری نماز اور غیر جہری نماز کا فرق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے سمجھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں قرأت کا ہونا ضروری بتایا گیا ہے۔
  • جہری نماز میں آواز بلند کرنے کا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ملتا ہے۔
  • غیر جہری نماز میں قرأت آہستہ رکھی جاتی ہے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا اور آگے پہنچایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں