صحیح مسلم حدیث ۸۸۱ - نماز میں سورۂ فاتحہ کی اہمیت

نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۸۱

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ أَبِي ، وَمِنْ أَبِي السَّائِبِ ، وَكَانَا جَلِيسَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً ، لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا " ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نامکمل ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔

صحیح مسلم حدیث ۸۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سورۂ فاتحہ کی قرأت کی بہت واضح تاکید فرمائی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے نماز میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی، اس کی نماز نامکمل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم معمولی بات نہیں بلکہ نماز کی قرأت سے جڑا ہوا اہم مسئلہ ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نماز صرف کھڑے ہونے، رکوع اور سجدہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں قرآن کی قرأت بھی شامل ہے۔ خاص طور پر سورۂ فاتحہ کی حدیث نماز پڑھنے والے کو یاد دلاتی ہے کہ نماز میں اللہ کے کلام کو صحیح طریقے سے پڑھنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنے کی خاص تاکید آئی ہے۔
  • قرأت کے بغیر نماز نامکمل رہ سکتی ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تین بار فرمانا اس حکم کی اہمیت بتاتا ہے۔
  • نماز میں قرآن پڑھنا نماز کے بنیادی اعمال میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں