صحیح مسلم حدیث ۸۸۴ - سورۂ فاتحہ کافی ہے

سورۂ فاتحہ اور اضافی قرأت کا آسان حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۸۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ ، فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ ، وَمَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ ، فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ ، وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ " .

ابوہریرہ روایت:

ہر نماز میں قرأت ہے اور نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند قرأت کر کے ہمیں اس کی تعلیم دی ویسی ہی ہم نے تم کو سنا دی۔ اور جو نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر جہری ادا فرمائی ویسی ہی ہم نے تم کو ادا کر کے بتا دی۔ جس نے سورۂ فاتحہ پڑھی اس کی نماز پوری ہوئی اور جس نے اس پر مزید کسی سورت یا آیات کا اضافہ کیا تو یہ بہتر ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۸۸۴ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہر نماز میں قرأت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قرأت کو بآواز بلند پڑھا، وہ لوگوں کو سنائی گئی، اور جس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ قرأت فرمائی، اس کا طریقہ بھی اسی طرح بتایا گیا۔ حدیث کا اہم جملہ یہ ہے کہ جس نے سورۂ فاتحہ پڑھی، اس کی نماز پوری ہوئی، اور جس نے اس پر مزید سورت یا آیات کا اضافہ کیا، وہ بہتر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورۂ فاتحہ اصل قرأت ہے، جبکہ اس کے بعد مزید قرآن پڑھنا فضیلت والی صورت ہے۔ یہ بات عام نمازی کے لیے بہت آسان اور واضح رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر نماز میں قرأت کا ذکر موجود ہے۔
  • سورۂ فاتحہ نماز کے لیے کافی بتائی گئی ہے۔
  • فاتحہ کے بعد مزید قرآن پڑھنا بہتر ہے۔
  • جہری اور غیر جہری نماز کا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں