صحیح مسلم حدیث ۸۸۵ - اطمینان سے نماز پڑھنا

نماز میں اطمینان اور صحیح طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۸۵

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ ، قَالَ : ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ ، صَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ، ثُمَّ قَالَ : ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا عَلِّمْنِي ، قَالَ : إِذَ قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اتنے میں ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا: ” جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ تو اس نے واپس ہو کر پہلے کی طرح نماز پڑھی اور لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وعلیکم السلام کہتے ہوئے فرمایا: ”جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز ادا نہیں کی۔“ چنانچہ اسی طرح وہ نماز پڑھتا اور لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے: ”جاؤ نماز پڑھو تم نے ادا نہیں کی۔“آخر اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو برحق بنایا ہے، میں اس سے زیادہ اچھے طریقے کے علاوہ مزید کسی چیز سے ناواقف ہوں۔ براہ کرم آپ ہی مجھے بتا دیجئے؟ تو ارشاد ہوا: ”تم جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو پہلے اللہ اکبر کہو اور پھر جتنا قرآن کریم تم باآسانی پڑھ سکتے ہو وہ پڑھو اس کے بعد رکوع کرو اور پھر بہ آرام بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اس کے بعد بہ اطمینان سجدہ کرو اور پھر بہ اطمینان قعدہ میں بیٹھو اور اسی طرح اپنی پوری نماز میں کیا کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۸۸۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص مسجد میں آیا، نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دے کر فرمایا کہ واپس جاؤ اور نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ یہ بات تین بار ہوئی۔ آخر اس شخص نے عرض کیا کہ مجھے اس سے بہتر طریقہ نہیں آتا، آپ مجھے سکھا دیجئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا طریقہ بتایا: پہلے تکبیر، پھر آسانی سے جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو، پھر رکوع میں اطمینان، پھر سیدھا کھڑا ہونا، پھر سجدے میں اطمینان، پھر بیٹھنے میں اطمینان، اور پوری نماز میں یہی طریقہ۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نماز جلدی جلدی حرکتیں کرنے کا نام نہیں، بلکہ اطمینان سے نماز پڑھنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں رکوع اور سجدہ اطمینان سے کرنا چاہیے۔
  • نماز کا طریقہ نہ آتا ہو تو سیکھنا چاہیے۔
  • تکبیر کے بعد قرآن کی قرأت نماز کا حصہ ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلطی پر رہنمائی نرمی سے فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں