صحیح مسلم حدیث ۸۹۵ - کوثر جنت کی نہر
کوثر جنت کی بہترین نہر ہے
صحیح مسلم : ۸۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۹۵
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً ، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ .
انس بن مالک روایت:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ نے اس روایت میں ابن مسہر کی مانند بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غفلت سی طاری ہوئی۔ اس روایت میں حوض کوثر کے گلاسوں کا ستاروں کی مانند ہونا مرقوم نہیں بلکہ اتنا تحریر ہے کہ ”کوثر ایک بہترین نہر ہے، جس کے عطیہ کا مجھ سے میرے پروردگار نے وعدہ کیا ہے کہ جنت کا یہ حوض کوثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۸۹۵ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حوض کوثر کا مضمون بیان ہوا ہے۔ روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غفلت سی طاری ہوئی، پھر آپ نے کوثر کا ذکر فرمایا۔ اس سند میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ کوثر ایک بہترین نہر ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت میں فرمایا ہے، اور اس پر حوض ہے۔ اس روایت میں پچھلی حدیث کی طرح حوض کے گلاسوں کا ستاروں کی تعداد کے برابر ہونا مذکور نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی جانی چاہیے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ کوثر اللہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص عطا ہے، جس کا تعلق جنت اور حوض سے ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کوثر کو جنت کی بہترین نہر بتایا گیا ہے۔
- یہ نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وعدہ ہے۔
- روایت میں حوض کوثر کا ذکر آیا ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں جو بات آئے، وضاحت اسی کے مطابق ہونی چاہیے۔
