صحیح مسلم حدیث ۸۹۰ - بسم اللہ آہستہ پڑھنا
نماز میں بسم اللہ جہر سے نہ پڑھنے کا بیان
صحیح مسلم : ۸۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۹۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَال : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 " .
انس روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر و فاروق اعظم و عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی لیکن ان میں سے کسی ایک کو بھی نماز میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» (جہر سے) پڑھتے نہیں سنا۔
صحیح مسلم حدیث ۸۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، مگر ان میں سے کسی کو بھی نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم جہر سے پڑھتے نہیں سنا۔ اس حدیث کا موضوع نماز میں بسم اللہ کی قرأت ہے، خاص طور پر اسے بلند آواز سے پڑھنے یا نہ پڑھنے کا معاملہ۔ متن میں صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا سنا ہوا عمل بیان ہوا ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک ہونی چاہیے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عمل کو غور سے دیکھا اور اسے بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ کو جہر سے نہ سننے کا مشاہدہ بیان کیا۔
- نماز کا طریقہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے نقل کیا۔
- خلفائے راشدین کے عمل کا بھی ذکر روایت میں آیا ہے۔
- نماز کے مسائل میں مشاہدہ شدہ عمل کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
