صحیح مسلم حدیث ۸۹۱ - بسم اللہ کی روایت کی سماع
بسم اللہ والی حدیث کے سماع کی وضاحت
صحیح مسلم : ۸۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۹۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ ، وَزَادَ ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ : أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَنَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ .
شعبہ روایت:
میں نے قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا، کیا آپ نے خود یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی سنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! ہم نے یہ مسئلہ ان سے پوچھا تھا تو انہوں نے یہ حدیث سنائی تھی۔
صحیح مسلم حدیث ۸۹۱ کا خلاصہ
اس روایت میں شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ قتادہ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ ہاں، ہم نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تھا تو انہوں نے یہ حدیث سنائی تھی۔ اس روایت کا اصل مقصد نماز میں بسم اللہ کے مسئلے سے زیادہ اس حدیث کے نقل ہونے کی وضاحت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محدثین کسی بات کو صرف سن کر آگے نہیں بڑھاتے تھے، بلکہ یہ بھی پوچھتے تھے کہ حدیث کس سے سنی گئی ہے۔ عام قاری کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ نماز کے مسائل میں روایت کی نسبت اور بات کی تحقیق بھی اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث بیان کرتے وقت سماع کی وضاحت کی گئی۔
- نماز کے مسئلے میں صحابی سے پوچھ کر روایت نقل کی گئی۔
- محدثین حدیث کی نسبت جاننے کا اہتمام کرتے تھے۔
- بسم اللہ کے مسئلے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا جواب نقل ہوا۔
