صحیح مسلم حدیث ۸۹۳ - بسم اللہ کا طریقہ

بسم اللہ اور قرأت کے عمل کی تائیدی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۹۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ ذَلِكَ .

‏‏‏‏ مذکور بالا حدیث اس سند سے بھی منقول ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۸۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا روایت اس سند سے بھی منقول ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں قرأت کے آغاز اور بسم اللہ کے جہر سے متعلق جو مضمون بیان ہوا، وہ ایک اور سند سے بھی نقل کیا گیا۔ متن مختصر ہے، لیکن اس کا تعلق اسی مسئلے سے ہے کہ نماز میں قرأت کس طرح شروع کی جاتی تھی اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کو جہر سے سننے کا ذکر نہیں آیا۔ اس روایت سے عام قاری کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حدیث کے مضمون کو نقل کرنے میں سندیں بھی ذکر کی جاتی ہیں، تاکہ معلوم ہو کہ بات کس راستے سے پہنچی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
  • نماز میں قرأت کے آغاز کا مسئلہ اس سے متعلق ہے۔
  • حدیث کی سند کا ذکر نقل حدیث کا حصہ ہے۔
  • صحابہ کے مشاہدات نماز کے طریقے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں