صحیح مسلم حدیث ۹۰۰ - تشہد کے بعد اختیار
تشہد کے بعد جو دعا چاہے کرے
صحیح مسلم : ۹۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۰۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ ، وَقَالَ : ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنَ الدُّعَاءِ ،
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ نماز میں تشہد پڑھتے تھے جیسا کہ منصور نے بیان کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” تشہد پڑھنے کے بعد نمازی کو اختیار ہے کہ جو دعا چاہے کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں تشہد پڑھتے تھے، جیسا کہ منصور نے بیان کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل ہوا کہ تشہد پڑھنے کے بعد نمازی کو اختیار ہے کہ جو دعا چاہے کرے۔ اس روایت کا اصل پیغام بہت سادہ ہے: نماز میں تشہد کے بعد دعا کا وقت ہے، اور نمازی اپنی حاجت کے مطابق اللہ تعالیٰ سے مانگ سکتا ہے۔ متن میں تشہد کے بعد دعا کے اختیار کو بیان کیا گیا ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جائے گی جو حدیث نے صاف طور پر کہی ہے۔ یہ حدیث نماز کے اندر دعا کی اہمیت اور تشہد کے مقام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تشہد کے بعد دعا کرنے کا اختیار بیان ہوا ہے۔
- نمازی اپنی حاجت کے مطابق دعا کر سکتا ہے۔
- تشہد نماز کا اہم حصہ ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے تشہد کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
