صحیح مسلم حدیث ۹۰۱ - تشہد سیکھنے کا نبوی انداز
تشہد کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا سکھانے کا پیارا انداز
صحیح مسلم : ۹۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۰۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ ، كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ ، كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَاقْتَصَّ التَّشَهُّدَ بِمِثْلِ مَا اقْتَصُّوا .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کے مندرجہ بالا تشہد اس طرح سکھایا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قرآن کی سورتیں سکھایا کرتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۹۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں تشہد ایسے سکھایا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑا۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ نماز کا تشہد کوئی معمولی کلمات نہیں، بلکہ اسے دھیان، محبت اور یاد رکھنے کے ساتھ سیکھنا چاہیے۔ حدیث کے الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم تشہد کو اسی اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔ اس لیے تشہد کی دعا، التحیات اور نماز میں بیٹھ کر پڑھے جانے والے کلمات کو صحیح طور پر یاد کرنا نمازی کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی بات سیکھنے میں توجہ بھی ہو اور استاد کا انداز بھی نرم اور قریب کرنے والا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تشہد کو صحیح الفاظ کے ساتھ سیکھنا نماز کا اہم حصہ ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم صحابہ کو نماز کے کلمات بڑی توجہ سے سکھاتے تھے۔
- دین سکھانے میں شفقت اور عملی توجہ کا انداز اختیار کرنا اچھا ہے۔
- نماز کے الفاظ کو یاد کرنے میں قرآن جیسی سنجیدگی ہونی چاہیے۔
