صحیح مسلم حدیث ۹۰۳ - تشہد کو قرآن کی طرح سیکھنا

تشہد سیکھنے کی حدیث: قرآن کی سورت جیسی توجہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۰۳

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ " .

ابن عباس روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد ایسے سکھایا کرتے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے۔

صحیح مسلم حدیث ۹۰۳ کا خلاصہ

اس مختصر مگر اہم حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صحابہ کو تشہد ایسے سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے۔ اس میں نماز کے تشہد کی اہمیت صاف معلوم ہوتی ہے۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم کسی چیز کو قرآن کی سورت کی طرح سکھائیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے الفاظ کو صحیح طور پر یاد کرنا چاہیے اور نماز میں غلطی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تشہد کی دعا میں اللہ کی حمد، سلام، نیک بندوں کے لیے دعا اور ایمان کی گواہی شامل ہوتی ہے۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ نماز کے اندر پڑھی جانے والی دعا کو صرف عادت کے طور پر نہیں، بلکہ سمجھ کر اور اہتمام کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تشہد کو سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ سیکھنا چاہیے۔
  • نماز کے الفاظ میں درستگی کی کوشش ضروری ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے تشہد کو عام کلمات کی طرح نہیں بلکہ خاص اہتمام سے سکھایا۔
  • دینی علم کو یاد کرنے میں بار بار سیکھنا فائدہ دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں