صحیح مسلم حدیث ۹۲۱ - امام کی پیروی کا حکم

امام کی پیروی: جماعت کی نماز کا صاف طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۲۱

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وأبو كريب جميعا ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُون " ،

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ گھوڑے پر سے گرنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائیں جانب کا بدن چھل گیا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے گئے۔ چونکہ نماز کا وقت ہو گیا تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے نماز پڑھائی۔ اور جب ہم سب لوگ نماز پڑھ چکے تو ارشاد ہوا: ”امام اسی لئے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے وہ جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو وہ جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور وہ جب تسمیع پڑھے تو تم تمحید پڑھو اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر ہی نماز ادا کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۹۲۱ کا خلاصہ

یہ حدیث جماعت کی نماز میں امام کی پیروی کو بہت صاف انداز میں سمجھاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گرے، دائیں جانب بدن چھل گیا، صحابہ عیادت کے لیے آئے، پھر نماز کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپ نے بتایا کہ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی اپنی مرضی سے آگے پیچھے نہ ہو، بلکہ امام کے عمل کے بعد عمل کرے۔ امام تکبیر کہے تو مقتدی تکبیر کہے، امام سجدہ کرے تو مقتدی سجدہ کرے، امام سر اٹھائے تو مقتدی سر اٹھائے۔ اسی طرح جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو مقتدی «ربنا ولك الحمد» کہے۔ اس روایت میں بیٹھ کر نماز پڑھانے کی صورت بھی آئی ہے، اس لیے اصل سبق نظم، ادب اور امام کی اقتدا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جماعت کی نماز میں امام کی پیروی اصل طریقہ ہے۔
  • مقتدی کو تکبیر، سجدہ اور سر اٹھانے میں امام کے ساتھ چلنا چاہیے۔
  • امام کے «سمع الله لمن حمده» کہنے پر مقتدی کو حمد کہنا چاہیے۔
  • اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو اس روایت کے مطابق مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں