صحیح مسلم حدیث ۹۲۰ - ولا الضالین کے بعد آمین

ولا الضالین کے بعد آمین: نماز میں قبولیت کی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۲۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَالَ الْقَارِئُ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ : آمِينَ ، فَوَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم پڑھنے والا جب «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے اور اس کے پیچھے والا شخص آمین کہے اور اس کا کہنا آسمان والوں کے آمین کہنے کے عین وقت میں ہو تو اس شخص کے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۹۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب قرآن پڑھنے والا غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے، اور اس کے پیچھے والا شخص آمین کہے، پھر اس کا کہنا آسمان والوں کے آمین کہنے کے وقت کے موافق ہو جائے، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس روایت میں سورۃ الفاتحہ کے آخر کے الفاظ کے بعد آمین کہنے کا وقت صاف بیان ہوا ہے۔ مقتدی کے لیے خاص طور پر یہ بات ہے کہ قاری یا امام کے پیچھے آمین کہے۔ آمین کا لفظ دعا کی قبولیت کی درخواست ہے، اس لیے اسے سمجھ کر کہنا چاہیے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جماعت کی نماز میں امام کی قرأت کے ساتھ مقتدی کا عمل بھی ترتیب اور توجہ کے ساتھ ہونا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولا الضالین کے بعد آمین کہنے کا ذکر آیا ہے۔
  • قاری کے پیچھے مقتدی کو آمین کہنی چاہیے۔
  • آسمان والوں کی آمین سے موافقت پر گزشتہ گناہوں کی معافی کا ذکر ہے۔
  • سورۃ الفاتحہ کے آخر پر آمین کو توجہ سے کہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں