صحیح مسلم حدیث ۹۱۷ - نمازی کی آمین اور فرشتوں کی آمین
نماز میں آمین: جب فرشتوں کی آمین سے موافقت ہو
صحیح مسلم : ۹۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۱۷
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ : آمِينَ ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ : آمِينَ ، فَوَافَقَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
تم جب نماز میں آمین کہو اور فرشتے آسمان پر آمین کہتے ہیں پھر تمہاری اور ان کی آمین ایک دوسرے کے برابر ہو جائے تو اس نمازی کے مذکورہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں آمین کہے اور فرشتے آسمان پر آمین کہیں، پھر دونوں کی آمین ایک دوسرے کے برابر ہو جائے، تو اس نمازی کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس روایت میں امام کا ذکر نہیں بلکہ عام انداز میں نماز میں آمین کہنے کی بات آئی ہے۔ اس سے آمین کی دعا اور اس کے وقت کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ نمازی کے لیے یہ بڑا سبق ہے کہ سورۃ الفاتحہ کے آخر پر آمین کہتے ہوئے دل کو حاضر رکھے۔ آمین کا مطلب دعا کی قبولیت کی درخواست ہے، اس لیے اسے بے دھیانی سے ادا کرنا مناسب نہیں۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مختصر لفظ بھی نماز میں بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں آمین کہنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- فرشتوں کی آمین سے موافقت پر گزشتہ گناہوں کی معافی کا ذکر ہے۔
- آمین کو توجہ اور دعا کے احساس کے ساتھ کہنا چاہیے۔
- نماز کے مختصر کلمات بھی اہم معنی رکھتے ہیں۔
