صحیح مسلم حدیث ۹۱۶ - آمین والی حدیث کی دوسری روایت

آمین کہنے کی حدیث: دوسری سند کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۱۶

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ .

ابوہریرہ روایت:

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مثل مگر اس میں آخری لفظ ابن شہاب کا قول نہیں ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۹۱۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پچھلی حدیث جیسی بات سنی، مگر اس روایت میں ابن شہاب رحمہ اللہ کا آخری قول ذکر نہیں کیا گیا۔ اصل مضمون وہی ہے کہ امام کے آمین کہنے پر مقتدی آمین کہے، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافق ہو جائے، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ روایت ہمیں حدیث کے نقل ہونے کا ایک صاف انداز دکھاتی ہے کہ جہاں کوئی جملہ کسی سند میں نہیں آیا، اسے الگ بتایا گیا۔ نماز میں آمین کی فضیلت یہاں بھی مرکزی بات ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ سورۃ الفاتحہ کے آخر پر آمین کہنے کے وقت کو سمجھے اور اسے معمولی لفظ نہ سمجھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت آمین والی حدیث کے معنی کو بیان کرتی ہے۔
  • حدیث کے الفاظ میں موجود فرق کو صاف طور پر بتایا گیا۔
  • آمین کہنے کا تعلق نماز کی دعا سے ہے۔
  • مقتدی کو امام کے ساتھ آمین کہنے کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں