صحیح مسلم حدیث ۹۱۸ - آمین اور فرشتوں کی موافقت

آمین کی فضیلت: بندے اور فرشتوں کی دعا کا ملنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۱۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ ، وَالْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ : آمِينَ ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں انہیں سے کسی کی دوسرے کے ساتھ موافقت ہو گئی تو گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۹۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں، پھر ایک کی آمین دوسرے کے ساتھ موافق ہو جائے، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث آمین کے لفظ کی قدر کو واضح کرتی ہے۔ نماز میں جب بندہ آمین کہتا ہے تو وہ اللہ سے دعا کی قبولیت مانگتا ہے، اور اسی وقت فرشتوں کی آمین سے موافقت بڑی فضیلت کا سبب بنتی ہے۔ روایت میں الفاظ مختصر ہیں مگر سبق بہت واضح ہے: نماز میں پڑھا جانے والا ہر کلمہ دھیان سے کہنا چاہیے۔ خاص طور پر آمین کو صرف عادت کے طور پر نہ کہا جائے بلکہ دعا سمجھ کر کہا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آمین کہتے وقت دعا کی قبولیت کا احساس ہونا چاہیے۔
  • فرشتوں کی آمین سے موافقت پر گزشتہ گناہوں کی معافی کا ذکر ہے۔
  • نماز میں زبان کے مختصر کلمات بھی اہم ہیں۔
  • آمین کو غفلت کے بجائے توجہ سے ادا کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں