صحیح مسلم حدیث ۹۲۳ - امام کھڑا ہو تو مقتدی بھی کھڑے ہوں
امام کھڑا ہو تو مقتدی بھی کھڑا: جماعت کا نظم
صحیح مسلم : ۹۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۲۳
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَزَادَ ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا ، فَصَلُّوا قِيَامًا ،
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب زخمی ہو گئی، باقی گزشتہ حدیثوں کی طرح بیان کیا اس میں اضافہ یہ ہے کہ ”جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۲۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گرے اور آپ کی دائیں جانب زخمی ہوئی۔ پھر پچھلی روایات جیسا مضمون آیا، مگر اس میں ایک اضافہ خاص طور پر بیان ہوا: جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔ یہ بات امام کی پیروی کو اور زیادہ واضح کر دیتی ہے۔ جماعت کی نماز میں اصل بات یہ ہے کہ امام کے عمل سے الگ راستہ نہ اختیار کیا جائے۔ اگر امام قیام میں ہے تو مقتدی بھی قیام میں رہے، اور اگر امام کسی عذر سے بیٹھا ہے تو روایت کے الفاظ کے مطابق مقتدی بیٹھتے ہیں۔ اس طرح نماز میں انتشار نہیں رہتا، بلکہ سب ایک امام کے تابع ہو کر عبادت کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کے قیام کی صورت میں مقتدی بھی قیام کرتے ہیں۔
- جماعت کی نماز میں ہر شخص اپنی مرضی سے حالت تبدیل نہیں کرتا۔
- حدیث میں امام کی اقتدا کو عملی مثال کے ساتھ سمجھایا گیا۔
- نماز کا نظم امام کی پیروی سے قائم رہتا ہے۔
