صحیح مسلم حدیث ۹۲۴ - قیام میں امام کی اقتدا
قیام میں امام کی پیروی کا نبوی طریقہ
صحیح مسلم : ۹۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۲۴
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَكِبَ فَرَسًا ، فَصُرِعَ عَنْهُ ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ، وَفِيهِ إِذَا صَلَّى قَائِمًا ، فَصَلُّوا قِيَامًا ،
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب زخمی ہو گئی، باقی گزشتہ حدیثوں کی طرح بیان کیا اس میں اضافہ یہ ہے کہ ”جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی وہی واقعہ نقل ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے، پھر گر پڑے اور دائیں جانب بدن زخمی ہوا۔ روایت پچھلی حدیثوں جیسی ہے، مگر اس میں یہ جملہ بھی ہے کہ جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی نماز میں امام کی حالت کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ امام کھڑا ہے تو مقتدی کھڑے ہوں، امام رکوع کرے تو مقتدی رکوع کریں، امام سجدہ کرے تو مقتدی سجدہ کریں۔ یہ روایت کسی لمبی بحث کے بجائے ایک سیدھی عملی بات سکھاتی ہے: نماز میں امام کے پیچھے چلنا ہے، امام سے الگ یا آگے نہیں چلنا۔ یہی امام کی پیروی اور جماعت کی نماز کا ادب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیام میں امام کی اقتدا کرنا حدیث کے الفاظ سے ثابت ہے۔
- نماز میں امام سے آگے بڑھنا درست انداز نہیں۔
- جماعت ایک امام کے ساتھ منظم رہتی ہے۔
- زخمی حالت کے واقعہ سے نماز کا عملی حکم بیان ہوا۔
