صحیح مسلم حدیث ۹۲۶ - بیٹھے امام کی اقتدا
بیٹھے امام کے پیچھے نماز: پیروی کا حکم
صحیح مسلم : ۹۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۲۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، فَصَلُّوا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسُوا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں بیٹھنے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد فراغت نماز فرمایا: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کرو۔ وہ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ اور وہ جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۲۶ کا خلاصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے۔ صحابہ عیادت کے لیے آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ کچھ لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے، تو آپ نے اشارے سے انہیں بیٹھنے کا حکم دیا۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب امام رکوع کرے تو مقتدی رکوع کریں، جب سر اٹھائے تو مقتدی سر اٹھائیں، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔ اس حدیث میں اشارے، عمل اور الفاظ تینوں سے ایک ہی بات سمجھ آتی ہے: جماعت میں امام کے طریقے کے خلاف الگ انداز اختیار نہیں کیا جاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کی پیروی صرف نیت سے نہیں، عمل میں بھی ہوتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے کھڑے لوگوں کو اشارے سے بیٹھنے کا حکم دیا۔
- رکوع اور سر اٹھانے میں امام کے بعد عمل کرنا چاہیے۔
- بیٹھ کر امامت کی صورت روایت میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔
