صحیح مسلم حدیث ۹۳۲ - امام سے پہلے کام نہ کرو
امام سے پہلے نہیں: تکبیر، آمین اور رکوع کا ادب
صحیح مسلم : ۹۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۳۲
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا ، يَقُولُ : " لَا تُبَادِرُوا الإِمَامَ ، إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَالَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تعلیم دیتے اور فرماتے تھے: ”امام سے پہلے کوئی کام نہ کرنا وہ جب تکبیر کہے اس وقت تکبیر کہنا۔ اور جب وہ «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو۔ وہ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور وہ جب تسمیع کہے تو تم تحمید پڑھا کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا انداز بہت صاف ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے اور فرماتے تھے کہ امام سے پہلے کوئی کام نہ کرو۔ امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ جب امام «ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو۔ امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو۔ امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو۔ اس روایت میں امام کی پیروی کے ساتھ آمین کہنے کا وقت بھی بتایا گیا ہے۔ یہ بات خاص طور پر جماعت کی نماز کے لیے ہے، جہاں مقتدی امام کے بعد چلتا ہے۔ حدیث کا پیغام آسان ہے: نماز میں جلد بازی نہیں، بلکہ امام کے عمل کے بعد عمل کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام سے پہلے عمل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
- امام کے «ولا الضالين» کہنے پر آمین کہی جائے۔
- رکوع امام کے بعد کیا جائے۔
- تسمیع کے بعد مقتدی تحمید کہتا ہے۔
