صحیح مسلم حدیث ۹۳۳ - امام سے پہلے نہ اٹھو

امام سے پہلے نہ اٹھنا: نماز میں صبر اور ترتیب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۳۳

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ ، إِلَّا قَوْلَهُ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، وَزَادَ : وَلَا تَرْفَعُوا قَبْلَهُ .

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں مذکورہ حدیث والے الفاظ مگر اس میں یہ لفظ ہیں کہ جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو اور مزید یہ کہ امام سے پہلے (رکوع سجدہ یا رکعت میں) نہ اٹھو۔

صحیح مسلم حدیث ۹۳۳ کا خلاصہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت پچھلی حدیث کے الفاظ کے قریب ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ جب امام «ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو۔ ساتھ یہ اضافہ بھی ہے کہ امام سے پہلے نہ اٹھو۔ یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے، مگر نماز کے ادب کو بہت واضح کر دیتا ہے۔ بعض اوقات آدمی جلدی میں امام سے پہلے رکوع، سجدہ یا اٹھنا شروع کر دیتا ہے۔ حدیث اس جلدی کو روکتی ہے اور مقتدی کو سکھاتی ہے کہ وہ امام کے بعد چلے۔ آمین، تکبیر، رکوع اور اٹھنے کے عمل میں امام کی پیروی سے جماعت ایک ساتھ رہتی ہے۔ اس روایت کا اصل سبق نماز میں صبر، ترتیب اور امام کے احترام کا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امام سے پہلے اٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • آمین کا وقت امام کے «ولا الضالين» کہنے کے بعد بیان ہوا۔
  • مقتدی کو جلدی نہیں کرنی چاہیے۔
  • جماعت کی ترتیب امام کے بعد عمل کرنے سے بنتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں