صحیح مسلم حدیث ۹۳۵ - کھڑے اور بیٹھے امام کی پیروی
امام کھڑا ہو یا بیٹھا: مقتدی کا کام پیروی ہے
صحیح مسلم : ۹۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۳۵
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّوْا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " .
ابوہریرہ روایت:
امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ تم اس کی پیروی کرو، جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور وہ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ اور وہ جب تسمیع پڑھے تو تم تحمید کہو۔ اور وہ جب کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۳۵ کا خلاصہ
یہ حدیث امام کی پیروی کے مضمون کو ایک مکمل ترتیب میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو۔ پھر فرمایا کہ جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو سب بیٹھ کر پڑھو۔ یہ روایت امام کی اقتدا کو صرف ایک حرکت تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ پوری جماعت کی نماز کا انداز بتاتی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ مقتدی امام کے مطابق نماز ادا کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کی پیروی کو روایت کے شروع ہی میں اصل اصول بتایا گیا۔
- تکبیر، رکوع اور تحمید امام کے بعد ہیں۔
- امام کھڑا ہو تو مقتدی کھڑے ہوتے ہیں۔
- امام بیٹھ کر پڑھائے تو روایت کے مطابق مقتدی بیٹھتے ہیں۔
