صحیح مسلم حدیث ۹۴۲ - بیماری میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت
بیماری کے دنوں میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی قیادت
صحیح مسلم : ۹۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۴۲
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِر ، فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أُجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُهُمُ التَّكْبِيرَ ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ " .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث نقل کی گئی ہے اور ان دونوں کی حدیث میں «ثقل» کے بجائے «مرض» کے الفاظ آتے ہیں باقی حدیث میں بھی چند الفاظ کا فرق ہے باقی معنی وہی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۹۴۲ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے معنی کو دوسرے الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اس بیماری میں تھے جس میں بعد میں آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات ہوئی۔ پھر بھی نماز کا معاملہ چھوڑا نہیں گیا، بلکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا گیا۔ اس روایت میں یہ بات بھی آتی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بٹھایا گیا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو تکبیر سناتے تھے۔ اس سے نماز باجماعت، امامت اور تکبیر سنانے کا پہلو صاف سامنے آتا ہے۔ یہ متن ہمیں بتاتا ہے کہ سخت بیماری کے وقت بھی جماعت کی نماز کا نظم قائم رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری کے دنوں میں بھی نماز کے نظم کا خیال رکھا گیا۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو تکبیر سناتے تھے تاکہ جماعت نماز ادا کر سکے۔
- ایک ہی واقعہ مختلف الفاظ سے روایت ہو سکتا ہے، مگر اصل معنی برقرار رہتا ہے۔
- امامت کا معاملہ نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم کے مطابق چلایا گیا۔
