صحیح مسلم حدیث ۹۴۳ - نبی صلى الله عليه وسلم کی امامت اور ابوبکر کی اقتدا
نبی صلى الله عليه وسلم کی موجودگی میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کا واقعہ
صحیح مسلم : ۹۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۴۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً ، فَخَرَجَ ، وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيْ كَمَا أَنْتَ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ ، إِلَى جَنْبِهِ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے زمانہ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو امامت کا حکم دیا وہ نماز پڑھاتے تھے۔ سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت جب ہلکی ہوئی تو بر بنائے تخفیف نفس مسجد میں تشریف لائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ پا کر پیچھے ہٹنا چاہا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ ”تم اپنی جگہ کھڑے رہو۔“اس کے بعد صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے برابر بیٹھ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور دوسرے لوگوں نے پہلے کی مانند سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پوری کی۔
صحیح مسلم حدیث ۹۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی بیماری میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ پھر ایک دن آپ صلى الله عليه وسلم کو کچھ ہلکا پن محسوس ہوا تو مسجد تشریف لائے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی امامت کر رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ یہ روایت نماز کی ترتیب اور ادب دونوں کو صاف بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں امام کو نبی صلى الله عليه وسلم کے اشارے کی پیروی کرنی چاہیے تھی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہی کیا۔
- ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے ادب میں پیچھے ہٹنا چاہا۔
- جماعت نے نماز کی ترتیب کے ساتھ اپنی نماز جاری رکھی۔
- بیماری کے باوجود نبی صلى الله عليه وسلم نے نماز کے معاملے کو اہم رکھا۔
