صحیح مسلم حدیث ۹۵۸ - رکوع و سجود نبی صلى الله عليه وسلم سے پوشیدہ نہیں
رکوع و سجود کو درست رکھنے کی یاد دہانی
صحیح مسلم : ۹۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۵۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا ؟ فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ رُكُوعُكُمْ وَلَا سُجُودُكُمْ ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ وَرَاءَ ظَهْرِي " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان کیا: ”تم سمجھتے ہو کہ میں صرف قبلہ کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ حالانکہ واللہ! مجھ پر تمہارے رکوع و سجود پوشیدہ نہیں۔ میں تم کو پیٹھ پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ میری نظر صرف قبلہ کی طرف ہے؟ پھر قسم کے ساتھ فرمایا کہ تمہارا رکوع اور تمہارا سجدہ مجھ پر پوشیدہ نہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ اس روایت کا اصل موضوع رکوع و سجود کی درست ادائیگی ہے۔ متن میں صاف پیغام ہے کہ نماز میں ہر حرکت کو سنجیدگی سے ادا کیا جائے۔ یہاں نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کو متوجہ کیا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ امام آگے رخ کیے ہوئے ہے تو پیچھے والوں کی کیفیت معلوم نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رکوع اور سجدہ نماز کے ایسے حصے ہیں جنہیں درست ادا کرنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ رکوع و سجود آپ صلى الله عليه وسلم پر پوشیدہ نہیں۔
- نمازی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اس کی نماز کی کیفیت دیکھی نہیں جا رہی۔
- حدیث نماز میں توجہ اور سنجیدگی کی یاد دلاتی ہے۔
