صحیح مسلم حدیث ۹۵۷ - نماز اچھی طرح ادا کرو
نماز کو اچھی طرح ادا کرنے کی نبوی نصیحت
صحیح مسلم : ۹۵۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۵۷
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : يَا فُلَانُ ، أَلَا تُحْسِنُ صَلَاتَكَ ، أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّى كَيْفَ يُصَلِّي ؟ فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ ، إِنِّي وَاللَّهِ لَأُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي ، كَمَا أُبْصِرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے بعد فرمایا: ”اے فلاں! تم اپنی نماز کو اچھی طرح کیوں ادا نہیں کرتے؟ کیا نمازی کو یہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ حالانکہ نمازی اپنے فائدوں کے لئے نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی قسم! میں جس طرح آگے سے دیکھتا ہوں اسی طرح پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“
صحیح مسلم حدیث ۹۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم اپنی نماز اچھی طرح کیوں ادا نہیں کرتے؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نمازی کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح نماز پڑھ رہا ہے، کیونکہ وہ اپنے ہی فائدے کے لیے نماز پڑھتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ میں آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز کی اصلاح ہے۔ اس میں رکوع، سجدہ یا کوئی خاص عمل الگ سے نہیں آیا، بلکہ عام طور پر نماز کو بہتر ادا کرنے کی نصیحت موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کو اچھی طرح ادا کرنے کی فکر خود نمازی کو کرنی چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے نماز کے بعد غلطی کی طرف متوجہ فرمایا۔
- حدیث کے مطابق نمازی اپنے فائدے کے لیے نماز پڑھتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے پیچھے سے دیکھنے کا ذکر فرمایا۔
