صحیح مسلم حدیث ۹۵۶ - نماز میں تسبیح کا لفظ
نماز میں مردوں کی تسبیح اور عورتوں کی دستک کا واضح ذکر
صحیح مسلم : ۹۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۵۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، وَزَادَ : فِي الصَّلَاةِ .
اس سند سے بھی وہی حدیث مروی ہے مگر اس میں اس لفظ کا اضافہ ہے کہ (نماز میں)۔
صحیح مسلم حدیث ۹۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی وہی مضمون نقل ہوا ہے، مگر اس میں خاص طور پر یہ لفظ بڑھا ہے کہ یہ بات نماز میں ہے۔ اس سے متن کے مطابق بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ مردوں کی تسبیح اور عورتوں کی دستک کا تعلق نماز کے دوران پیش آنے والی صورت سے ہے۔ روایت بہت مختصر ہے، اس لیے اس میں نہ کوئی الگ واقعہ بیان ہوا ہے اور نہ کوئی لمبی تفصیل۔ اصل بات یہی ہے کہ نماز میں امام کو متوجہ کرنے کے لیے مرد سبحان اللہ کہیں، اور عورتوں کے لیے دستک کا ذکر ہے۔ یہ حدیث پچھلی روایات کے ساتھ مل کر اسی ایک عملی مسئلے کو آسان لفظوں میں سامنے لاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں نماز کے اندر ہونے کی صراحت آئی ہے۔
- مردوں کے لیے تسبیح کا حکم اسی مضمون میں بیان ہوا ہے۔
- عورتوں کے لیے دستک کا ذکر موجود ہے۔
- روایت مختصر ہے، اس لیے بات اسی واضح لفظ تک محدود رہتی ہے۔
