حدیث ۹۴۹
صحیح مسلم : ۹۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۴۹
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ ، فَصَفَّقَ النَّاسُ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ ، لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ ، الْتَفَتَ ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ ، حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ ؟ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ ، فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ " ،
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنی عمرو بن عوف والوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغرض مصالحت تشریف لے گئے۔ چونکہ نماز کا وقت ہو چکا تھا، اس لئے مؤذن نے اذان دینے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تکبیر کہتا ہوں آپ نماز پڑھائیے۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے آئے اور لوگوں میں سے نکلتے ہوئے صف میں شریک ہو گئے مقتدی دستک دینے لگے۔ لیکن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہ ہوتے تھے۔ مقتدی جب بکثرت دستک دینے لگے تو آپ متوجہ ہوئے اور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہا۔ جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا: ”تم اپنی جگہ کھڑے رہو۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شرف امامت بخشنے پر اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔ اور پیچھے آ کر صف میں شریک ہو گئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے ابوبکر! تم اپنی جگہ کھڑے کیوں نہیں رہے، میں نے تو تم کو کھڑے رہنے کا حکم دیا تھا؟“ جس پر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے میں اتنی سکت نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدیوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے بہت زیادہ دستک دی۔ دستک تو عورتوں کے لئے ہے تمہیں جب نماز میں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو تم لوگ سبحان اللہ کہو۔ جب تم سبحان اللہ کہو گے تو امام تمہاری طرف متوجہ ہو جائے گا۔“
