صحیح مسلم حدیث ۹۵۰ - نماز میں پیچھے ہٹنے کا واقعہ

ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نماز میں ادب اور پیچھے آنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۵۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ ، حَتّى قَامَ فِي الصَّفِّ ،

سہل بن سعد روایت:

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بحالت نماز اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کی تعریف کی اور پھر الٹے پیچھے ہٹ کر صف میں شریک ہو گئے۔

صحیح مسلم حدیث ۹۵۰ کا خلاصہ

یہ روایت سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کا ایک حصہ زیادہ صاف الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز کی حالت میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، اللہ کی تعریف کی، پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف میں شامل ہو گئے۔ یہ پورا واقعہ اس وقت کا ہے جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نماز کے دوران تشریف لائے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی جگہ رہنے کا اشارہ کیا تھا، مگر انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ادب میں پیچھے آنا مناسب سمجھا۔ متن میں خاص طور پر ہاتھ اٹھانے، اللہ کی حمد کرنے، اور الٹے پاؤں پیچھے آنے کا ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کا مرکز نماز کا ادب اور امامت کی جگہ کا معاملہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد کی جب انہیں نبی صلى الله عليه وسلم نے جگہ پر رہنے کا اشارہ کیا۔
  • انہوں نے الٹے پاؤں پیچھے ہٹ کر صف میں شمولیت اختیار کی۔
  • نماز میں غیر ضروری رخ بدلنے کے بجائے احتیاط کا پہلو نظر آتا ہے۔
  • یہ روایت پچھلے واقعے کی ایک خاص تفصیل بیان کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں