صحیح مسلم حدیث ۹۵۵ - تسبیح اور دستک کی روایت
اسی مضمون کی دوسری سند: نماز میں تسبیح اور دستک
صحیح مسلم : ۹۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۵۵
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ،
اس سند سے بھی مذکورہ حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۹۵۵ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو پچھلی حدیث میں آیا ہے۔ اس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلى الله عليه وسلم کا وہی ارشاد نقل ہوا کہ مردوں کے لیے تسبیح ہے اور عورتوں کے لیے دستک۔ چونکہ متن میں تفصیل کم ہے اور صرف پچھلی حدیث جیسا مضمون بتایا گیا ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی بات تک محدود ہے۔ نماز میں جب کوئی صورت پیش آئے تو مرد سبحان اللہ کہہ کر امام کو متوجہ کریں، اور عورتوں کے لیے دستک کا ذکر ہے۔ اس روایت کا فائدہ یہ ہے کہ وہی بات دوسری سند سے بھی آئی ہے۔ یہاں کوئی اضافی واقعہ، مقام یا الگ حکم بیان نہیں ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- مردوں کے لیے نماز میں تسبیح کا ذکر برقرار ہے۔
- عورتوں کے لیے دستک کا ذکر اسی طرح آیا ہے۔
- مختصر روایت سے اضافی باتیں شامل نہیں کرنی چاہییں۔
