صحیح مسلم حدیث ۹۷ - ایمان، اسلام، احسان اور قیامت کی نشانیاں

ایمان کیا ہے؟ اسلام، احسان اور قیامت کی نشانیوں کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۹۷

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تؤمِنَ بِاللَّهِ ، وَمَلَائِكَتِهِ ، وَكِتَابِهِ ، وَلِقَائِهِ ، وَرُسُلِهِ ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الآخِرِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " الإِسْلَامُ ، أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الإِحْسَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ ، كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا ، " إِذَا وَلَدَتِ الأَمَةُ رَبَّهَا ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ ، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ " ، ثُمَّ تَلَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 ، قَالَ : ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ ، فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا جِبْرِيل ، جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ " .

سیدنا ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں میں برآمد تھے، اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا: یا رسول اللہ! ایمان کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے دل سے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس سے ملنے پر اور اس کے پیغمبروں پر اور یقین کرے پچھلے روز جی اٹھنے پر۔“پھر وہ شخص بولا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو اللہ جل جلالہ کو پوجے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور قائم کرے تو نماز کو اور زکوٰۃ کو جس قدر فرض ہے اور روزے رکھے رمضان کے، پھر وہ شخص بولا: یا رسول اللہ! احسان کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو عبادت کرے اللہ کی جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھتا (یعنی اتنا استغراق نہ ہو اور یہ درجہ نہ ہو سکے) تو اتنا تو ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“پھر وہ شخص بولا: یا رسول اللہ! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ”جس سے پوچھتے ہو قیامت کو وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن اس کی نشانیاں میں تجھ سے بیان کرتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب ننگے بدن، ننگے پاؤں پھرنے والے لوگ سردار بنیں تو قیامت کی نشانی ہے اور جب بکریاں یا بھیڑیں چرانے والے بڑی بڑی حویلیاں بنا دیں تو یہ بھی قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو کوئی نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔“پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ”اللہ ہی جانتا ہے قیامت کو اور اتارتا ہے پانی کو اور جانتا ہے جو کچھ ماں کے رحم میں ہے (یعنی نر یا مادہ) اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس ملک میں مرے گا۔ اللہ ہی جاننے والا اور خبردار ہے۔“راوی نے کہا: پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس کو پھر لے آؤ“ لوگ چلے اس کو لینے کو لیکن وہاں کچھ نہ پایا (یعنی اس شخص کا نشان بھی نہ ملا) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرئیل علیہ السلام تھے تم کو دین کی باتیں سکھانے آئے تھے۔“

صحیح مسلم حدیث ۹۷ کا خلاصہ

اس روایت میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان، اسلام، احسان اور قیامت کے بارے میں سوال کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان میں اللہ، فرشتوں، کتاب، اللہ سے ملاقات، رسولوں اور آخری بعث پر ایمان کا ذکر فرمایا۔ اسلام میں اللہ کی عبادت، شرک سے بچنا، فرض نماز، فرض زکوٰۃ اور رمضان کے روزے بیان ہوئے۔ احسان یہ ہے کہ بندہ اللہ کی عبادت ایسے کرے جیسے اسے دیکھ رہا ہو، اور اگر وہ اسے نہیں دیکھتا تو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ قیامت کے وقت کے بارے میں فرمایا گیا کہ پوچھا جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ پھر لونڈی کا اپنے مالک کو جننا، ننگے پاؤں اور ننگے بدن لوگوں کا سردار بننا، اور چرواہوں کا عمارتوں میں مقابلہ کرنا نشانیوں میں آیا۔ آخر میں بتایا گیا کہ وہ جبریل علیہ السلام تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایمان دل کے یقین اور بنیادی عقائد پر مشتمل ہے۔
  • اسلام میں عبادت، نماز، زکوٰۃ اور رمضان کے روزے خاص طور پر ذکر ہوئے۔
  • احسان عبادت میں اللہ کے دیکھنے کا احساس پیدا کرتا ہے۔
  • قیامت کا وقت اللہ ہی جانتا ہے، البتہ اس کی نشانیاں بیان ہوئی ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں