صحیح مسلم حدیث ۱۰۰ - فرائض اسلام اور سچائی پر کامیابی

فرائض اسلام: پانچ نمازیں، رمضان کے روزے اور زکوٰۃ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ، ثَائِرُ الرَّأْسِ ، نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ ، حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ فَقَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، قَالَ : فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " .

طلحہ بن عبیداللہ روایت:

نجد والوں (نجد عرب میں ایک ملک ہے) میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے بال بکھرے تھے۔ ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے لیکن سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہتا ہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آیا تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔“ وہ بولا: ان کے سوا میرے اوپر اور کوئی نماز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھنا چاہئے اور رمضان کے روزے ہیں۔“وہ بولا: مجھ پر رمضان کے سوا اور کوئی روزہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ نفل روزہ رکھنا چاہے۔“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بیان کیا۔ وہ بولا: مجھ پر اس کے سوا اور کوئی چیز ہے؟ فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تو نفل ثواب کے لئے صدقہ دینا چاہے“ راوی نے کہا: پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا: اللہ کی قسم! میں نہ ان سے زیادہ کروں گا نہ ان میں کمی کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مراد پائی اس نے اگر سچا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۰۰ کا خلاصہ

اس روایت کا مرکزی موضوع فرائض اسلام ہے۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نجد کا ایک شخص بکھرے بالوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن رات میں پانچ نمازیں بیان فرمائیں۔ اس نے پوچھا کیا ان کے سوا بھی کوئی نماز لازم ہے؟ فرمایا نہیں، مگر یہ کہ نفل پڑھو۔ پھر رمضان کے روزے بیان ہوئے، اس نے پوچھا کیا اس کے سوا کوئی روزہ لازم ہے؟ فرمایا نہیں، مگر نفل۔ پھر زکوٰۃ کا ذکر ہوا، اس نے پوچھا کیا اس کے سوا کچھ ہے؟ فرمایا نہیں، مگر نفل صدقہ۔ وہ شخص کہتا ہوا گیا کہ نہ زیادہ کروں گا نہ کمی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سچا ہے تو کامیاب ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دن رات میں پانچ نمازیں فرض عبادت کے طور پر بیان ہوئیں۔
  • رمضان کے روزے فرض ہیں، جبکہ اضافی روزے نفل ہیں۔
  • زکوٰۃ فرض ہے، اور اضافی صدقہ نفل طور پر ہو سکتا ہے۔
  • فرائض کو سچائی سے ادا کرنا کامیابی کا سبب بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں