صحیح مسلم حدیث ۱۰۱ - فرض عبادات پر سچائی اور کامیابی
فرض عبادات کی پابندی: سچائی کے ساتھ نجات کا راستہ
صحیح مسلم : ۱۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۱
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ " .
طلحہ بن عبیداللہ روایت:
دوسری روایت بھی ایسی ہی ہے جیسے اوپر گزری۔ اتنا فرق ہے کہ جب اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم میں اس میں نہ کمی کروں گا نہ بیشی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نجات پائی اس نے قسم اس کے باپ کی اگر سچا ہے یا جنت میں جائے گا قسم اس کے باپ کی سچا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۰۱ کا خلاصہ
اس روایت میں اصل بات یہ ہے کہ آدمی نے دین کے ضروری اعمال کے بارے میں وعدہ کیا کہ وہ ان میں نہ کمی کرے گا نہ زیادتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سچا ہونے پر کامیابی اور جنت کی خوش خبری بیان فرمائی۔ یہاں مرکزی سبق فرض عبادات کی پابندی ہے۔ “فرض نماز کی حدیث”، “جنت کا راستہ” اور “اسلام کے بنیادی اعمال” جیسے الفاظ اسی مضمون سے جڑے ہیں۔ حدیث یہ نہیں کہ نفلی نیکی کی ضرورت نہیں، بلکہ دیے ہوئے متن کے مطابق بات اس شخص کے سچے عزم پر ہے۔ جو بندہ اللہ کے حکم کو سن کر سنجیدگی سے مانے، کمی نہ کرے، اور اپنے قول میں سچا رہے، اس کے لیے امید کا دروازہ کھلتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین میں اصل بات سچا عزم اور عمل کی پابندی ہے۔
- فرض اعمال میں کمی کرنا ہلکی بات نہیں سمجھی جانی چاہیے۔
- زبان سے وعدہ کرنے کے بعد اسے عمل سے سچا کرنا ضروری ہے۔
