صحیح مسلم حدیث ۱۰۲ - ارکان اسلام کی تصدیق اور جنت کی امید
ارکان اسلام کی حدیث: توحید سے حج تک سچا اقرار
صحیح مسلم : ۱۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۲
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ ، فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ ، قَالَ : صَدَقَ ، قَالَ : " فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ ، ؟ قَالَ : اللَّهُ ، قَالَ : فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ ؟ قَالَ : اللَّهُ ، قَالَ : فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ ؟ قَالَ : اللَّهُ ، قَالَ : فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ ، وَخَلَقَ الأَرْضَ ، وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا ؟ قَالَ : صَدَقَ ، قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا ؟ قَالَ : صَدَقَ ، قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا ؟ قَالَ : صَدَقَ ، قَالَ : فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ؟ قَالَ : صَدَقَ " ، قَالَ ثُمَّ وَلَّى : قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ صَدَقَ ، لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ " ،
انس بن مالک روایت:
ہم کو ممانعت ہوئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھنے کی تو ہم کو اچھا معلوم ہوتا کہ دیہات کے رہنے والوں میں سے کوئی شخص آئے مگر سمجھ دار ہو۔ آپ سے پوچھے اور ہم سنیں تو دیہات کے رہنے والوں میں سے ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اے محمد! آپ کا ایلچی ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ کہتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ایلچی نے سچ کہا“ وہ شخص بولا: تو آسمان کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ پھر اس نے کہا: زمین کس نے پیدا کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ نے“ پھر اس نے کہا: پہاڑوں کو کس نے کھڑا کیا اور ان میں جو چیزیں ہیں، وہ کس نے پیدا کیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے۔“تب اس شخص نے کہا: قسم ہے اس کی جس نے آسمان کو پیدا کیا اور زمین بنائی اور پہاڑوں کو کھڑا کیا، کیا اللہ تعالیٰ نے سچ مچ آپ کو بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر وہ شخص بولا: آپ کے ایلچی نے ہم سے کہا کہ ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں ہر دن اور رات میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ وہ شخص بولا: قسم ہے اس کی جس نے آپ کو بھیجا کیا اللہ نے آپ کو ان نمازوں کا حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“پھر وہ شخص بولا: آپ کے ایلچی نے کہا کہ ہم پر ہمارے مالوں کی زکوٰۃ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ وہ شخص بولا: قسم اس کی جس نے آپ کو بھیجا ہے اللہ نے آپ کو زکوٰۃ کا حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر وہ شخص بولا آپ کے ایلچی نے کہا: ہم پر رمضان کے روزے فرض ہیں ہر سال۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ وہ شخص بولا: قسم اس کی جس نے آپ کو بھیجا اللہ نے آپ کو ان روزوں کا حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“پھر وہ شخص بولا: آپ کے ایلچی نے کہا کہ ہم پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جو کوئی راہ چلنے کی طاقت رکھے؟ (یعنی خرچ راہ اور سواری ہو اور راستہ میں امن ہو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ یہ سن کر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور کہنے لگا: قسم ہے اس کی جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا، میں ان باتوں سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ سچا ہے، تو جنت میں جائے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۰۲ کا خلاصہ
یہ حدیث ارکان اسلام کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ ایک سمجھ دار دیہاتی نے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق پوچھی، پھر آسمان، زمین اور پہاڑوں کی تخلیق کا سوال کیا، اور ہر جواب میں اللہ کی قدرت کو مانا۔ اس کے بعد اس نے پانچ نمازیں، مال کی زکوٰۃ، رمضان کے روزے اور استطاعت والے کے لیے حج کے بارے میں پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بات کی تصدیق فرمائی۔ اس نے کہا کہ میں ان باتوں میں نہ اضافہ کروں گا نہ کمی۔ اس پر فرمایا گیا کہ اگر یہ سچا ہے تو جنت میں جائے گا۔ “ارکان اسلام”، “پانچ نمازیں”، “زکوٰۃ فرض” اور “رمضان کے روزے” اس حدیث کے اصل سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کا علم پوچھنا درست ہے جب مقصد سمجھنا اور عمل کرنا ہو۔
- توحید کے ساتھ نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج دین کے بڑے اعمال ہیں۔
- سچا اقرار اسی وقت فائدہ دیتا ہے جب عمل بھی ساتھ ہو۔
